News Logo
صفحہ اول میگزین روبرو ای پیپر

Follow Us

ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت آئندہ 10 برسوں میں انسانیت کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، جیکب کاکسن

Saturday, 12 September 2026

25 ویوز
مصنوعی ذہانت آئندہ 10 برسوں میں انسانیت کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، جیکب کاکسن

جیکب کاکسن، جو اس سے قبل اوپن اے آئی میں بھی کام کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث انسانیت کو رواں دہائی کے اختتام تک تباہ کن خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت بڑی اے آئی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلیجنس تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں، جبکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کیلئے درکار حفاظتی اقدامات ابھی کافی نہیں۔

جیکب کاکسن کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹمز مستقبل میں سائبر حملوں، اہم انفراسٹرکچر تک رسائی اور دیگر خطرناک سرگرمیوں کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں، اگر اے آئی کو خود اے آئی کی تحقیق اور بہتری کیلئے استعمال کیا جانے لگا تو ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔

ان کے مطابق ایک ایسا مرحلہ آسکتا ہے جہاں انتہائی ذہین اے آئی سسٹمز انسانی صلاحیتوں سے بہت آگے نکل جائیں اور انہیں قابو میں رکھنا مشکل ہوجائے۔

جیکب کے خدشات کو اینتھروپک کے الائنمنٹ سائنس لیڈ ایون ہیوبنگر نے بھی جزوی طور پر تقویت دی، ہیوبنگر نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اگلی دہائی میں اے آئی کے نتیجے میں انسانیت کے خاتمے کے امکان کو 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اینتھروپک اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کام کررہی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی دوڑ کو مزید تیز کرنے کے بجائے عالمی سطح پر حفاظتی اقدامات اور ذمہ دارانہ پیش رفت پر توجہ دینا ضروری ہے، ان کے استعفے اور بیانات کے بعد اے آئی سیفٹی، انسانی کنٹرول اور مستقبل میں سپر انٹیلیجنس کے ممکنہ خطرات پر ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

آگے شیئر کریں:

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!

تبصرہ کریں

مزید ٹیکنالوجی کی نیوز