News Logo
صفحہ اول میگزین روبرو ای پیپر

Follow Us

پاکستان

خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

Monday, 31 August 2026

13 ویوز
خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شخ نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کر لی اور 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مجموعی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ 11 تولے سونا خریدنے کیلئے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، جبکہ شوہر اپنی جانب سے رقم ادا کرنے کا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا، محض نکاح نامے میں حق مہر درج ہونے کی بنیاد پر شوہر کو اس کی واپسی کا حقدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت کے مطابق خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کا اصول اسی صورت میں لاگو ہوگا جب یہ ثابت ہو کہ متعلقہ حق مہر حقیقتاً شوہر کی جانب سے ادا کیا گیا تھا، شوہر کی جانب سے ادائیگی ثابت نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو وہ مال واپس کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا جس کی خریداری کیلئے رقم اس کے والد نے فراہم کی ہو۔

فیصلے میں عدالت نے شوہر کی مالی حیثیت سے متعلق متضاد مؤقف کو بھی اہم قرار دیا، عدالت نے کہا کہ شوہر ایک طرف 19 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا گھر اور 11 تولے سونا خریدنے کی استطاعت کا دعویٰ کرتا رہا، جبکہ دوسری جانب نابالغ بچے کے نان نفقہ کے معاملے میں اپنی مالی حیثیت کم ظاہر کرتا رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ والد کی صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے، والد اپنی آمدن کم ظاہر کر کے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، گھر کی ملکیت کے معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ بینک ریکارڈ اور گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوا کہ گھر کی خریداری کی رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، شوہر اپنے وسائل سے گھر خریدنے کے دعوے کے حق میں قابل اعتماد دستاویز پیش نہ کر سکا۔

عدالت نے خاتون کی جانب سے گھر اپنے والد کے نام تمليك کرنے کو بھی قانونی قرار دیا اور شوہر کا یہ اعتراض مسترد کر دیا کہ والد کو گھر کا قبضہ منتقل نہیں کیا گیا، عدالت کے مطابق خاتون خود گھر کی قانونی مالک تھی اور گھر میں رہائش پذیر تھی، اس لیے ہر صورت میں قبضے کی الگ ظاہری منتقلی ضروری نہیں تھی، تاہم عدالت نے 22 تولے زیورات اور 63 ہزار روپے زچگی کے اخراجات کی واپسی کے دعوے مسترد کرنے کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت کے مطابق خاتون یہ ثابت نہیں کر سکی کہ مذکورہ زیورات شوہر یا اس کے خاندان کے قبضے میں رہ گئے تھے، جبکہ زچگی کے اخراجات کی ادائیگی بھی والدین کی جانب سے کیے جانے کا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کر دیا، جبکہ فیصلے کے دیگر حصے برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی دیگر درخواستیں مسترد کر دیں۔

آگے شیئر کریں:

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!

تبصرہ کریں

مزید پاکستان کی نیوز